ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو: 50فیصد ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنےو الی بی جےپی کیا ساحلی پٹی پر اپنا کنٹرول برقراررکھ سکے گی ؟

منگلورو: 50فیصد ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنےو الی بی جےپی کیا ساحلی پٹی پر اپنا کنٹرول برقراررکھ سکے گی ؟

Sat, 15 Apr 2023 21:53:29    S.O. News Service

منگلورو :15؍اپریل (ایس اؤ نیوز ) ’میرا امیدوار کمل کا نشان ہے، کوئی شخص نہیں ہے‘ ۔ دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں یہ جملہ بی جےپی کی ذہنیت کی عکاسی کرتاہے، ان دونوں اضلاع میں بی جےپی نے 10مئی کو ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں اپنےنصف حالیہ ارکان اسمبلی کو تبدیل کرتےہوئے نئے چہروں کو آزمارہی ہے۔

سال 2018میں دونوں اضلاع کے 13حلقوں میں سے 12حلقوں پر بی جےپی کی نمائندگی رہی ہے۔ بی جےپی نے اپنے ہندوتوا کےسہارے ہندونواز کارکنوں کی موت کا استعمال کرتےہوئے ساحلی پٹی پر قبضہ جمایاتھا۔ اب آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کےلئے بی جےپی نے 6نئے چہروں کو میدان میں اتاراہے۔ دراصل یہ بی جےپی کے اپنے ساحلی پٹی کے کیڈر پر اعتماد کو ظاہر کرتاہے۔ لیکن بڑا سوال یہ ہےکہ کیا بی جے پی کا یہ تجربہ ایک ایسے خطہ میں نتیجہ خیز ثابت ہوگا جس کو اکثر آر ایس ایس کی ہندوتوا لیباریٹری کہاجاتاہے؟۔

بی جےپی کے اُڈپی ضلع صدر کولاڑی سریش نایک کا کہنا بھی یہی ہےکہ پارٹی ہر حلقہ سے جیت درج کرے گی ہمارے لئے امیدوار کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں بی جےپی اور آرایس ایس اپنامضبوط کیڈر رکھتےہیں اسی بنیاد پر پارٹی نے نئے چہروں کے ساتھ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُڈپی میں ہی بی جے پی نے 5 حلقوں میں ایک کو چھوڑ کر 4 نئے امیدواروں کو میدان میں اتاراہے۔

سیاسی تجربہ کاروں کاکہنا ہے کہ اس دوران بی جے پی کا روایتی ووٹر متوسط اور کاروباری طبقہ میں اقتدار مخالف عروج پرہے۔ لہذا اپنے مضبوط کیڈر بیس سے  فتح یقینی نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے تجربہ کار کہتے ہیں کہ ذات، برادری اور حکومت مخالف عوامل کی بنیادوں پرمحتاط حساب کتاب کے ساتھ  اُڈپی کے حلقوں میں امیدواروں کو منتخب کیاگیا ہے۔ مثال کے طورپر آپ دیکھ سکتےہیں کہ اُڈپی حلقے سے بی جےپی نے سورنا یشپال اور کانگریس نے پرساد راج کانچن کو میدان میں اتاراہے اور دونوں امیدواروں کا تعلق موگویرا طبقہ سےہے، کیونکہ انتخابی جیت میں ذات اور برادری کا اہم کردار ہوتاہے۔

بی جےپی نے بنٹس طبقہ کے دوامیدوار کاپوسے گُرمی سریش شٹی کو اور بیندور سے گروراج گنٹی بولے کو ٹکٹ دیا ہے ۔ کنداپور سے ایک برہمن کرن کمار کوڈگی کو اور پتور سے وکیلگا طبقہ کی آشا تمپا گوڈا کو میدان میں اتاراہے۔ جب کہ سولیا میں 6مرتبہ کے رکن اسمبلی دلت طبقے سے تعلق رکھنےو الے  ایس انگارا کو وزیر کا عہدہ سونپ کر ظاہر کردیا گیا تھا کہ انہیں  دوبارہ موقع نہیں ملےگا۔ یہاں انگار ا کے بجائے بھاگیرتی مرلیا کا انتخاب بہت ہی تعجب خیز ہے کیونکہ 1972کے بعد آدی دراوڈ کو نمائندگی دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ آدی دراوڈ کا تعلقہ میں سب سےزیادہ محروم طبقہ میں شمار ہوتاہے۔

سولیا کے ایک کسان اور ادیب مہیش پچا پڈی کہتے ہیں کہ  بھاگیرتی کے پس منظر کو دیکھتےہوئے سوچ بچار کے بعد انہیں امیدوار بنایا گیا ہے۔ کیونکہ ضلع پنچایت ممبر کی حیثیت سے بھاگیرتی نے کوئی خاص کام تو نہیں کیا ہے۔ البتہ اب ان کی کامیابی کا انحصاران کی جانب سے بنائے جانے والی ٹیم پر ہے۔

خیانت کا احساس:شروع میں ہوسکتاہے پارٹی قائدین، کارکنوں میں پائی جانےو الی عدم اطمینانی کے احساسات اور پارٹی کے فیصلے پر ہونےوالے اختلافات کو ختم کردیں، لیکن  ووٹروں میں دھوکہ دہی کا احساس نظر آرہاہے۔ پتور حلقہ سے(جہاں بی جےپی نے آشا کو امیدوار بنایا ہے ) تعلق رکھنےوالے آر ایس ایس کارکن کرشنانند منی مولے نے امیدوار کے انتخاب کی مخالفت میں آواز اٹھائی ہے اور اپنی ناپسندیدگی کااظہارکیا ہے۔ پارٹی لیڈران کہتےہیں کہ سروے کی بنیاد پر امیدوار کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تو کرشنانند سوال کرتےہیں کہ سروے میں کس کو شامل کیاگیا تھا؟ اگر آپ ہمارے 100لوگوں سے موجودہ امیدوار کے متعلق پوچھیں تو   10کو بھی ہمارے امیدوار کے متعلق  معلوم نہیں ہوگا۔ اسی لئے میں نے پہلی بار سوچ رہاہوں کہ نوٹا کو دباؤں۔ یعنی جہاں  نئے امیدواروں کی قابلیت اورعملیت پر توجہ دی جارہی ہے وہیں ٹکٹوں کی تقسیم کاری بھی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ سیاسی مفکر راجا رام تلور کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی بنیادیہی ہوتی ہے کہ منتخب نمائندہ، حلقہ کی امنگوں کی آواز بنے۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب کوئی لیڈر باضابطہ طورپرابھرے نہ کہ کسی حلقےمیں ہائی کمان کی خواہش پر زوردیاجائے۔


Share: